Select Page

کر بھلا سو ہو بھلا

کر بھلا سو ہو بھلا

“سعدی اندر آ جاؤ بیٹا! شام ہو گی ہے-” شیزا دروازے پر کھڑی اپنے نو سال کے بیٹے کو بلا رہی تھی جو باہر دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھا-
“چلو بیٹا منہ ہاتھ دھو لو – میں نے تمہارے لیے کولڈ کیک بنایا ہے-” سعدی اب اندر آ چکا تھا
“اوکے ماما! میں ابھی آتا ہوں-” سعدی یہ کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا. اور شیزا گھر کے کام کرنے میں مصروف ہو گئی-

کچھ دیر بعد سعدی کے چیخنے کی آواز شیزا کی سماعتوں سے ٹکرائ- آواز سنتے ہی شیزا کمرے کی طرف لپکی- کمرے کا منظر دیکھتے ہی جیسے شیزا کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئ  ہو- سعدی شیزا کو دیکھتے ہی اس کی طرف لپکا اور اُس کے ساتھ لگ کر رونے لگا- شیزا نے دیکھا کہ خون سے لدپدھ لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ہے اور وہ لاش کسی انجان شخص کی تھی- دونوں ماں بیٹا خوف کی گرفت میں تھے- چند لمحوں کے لیے انھیں کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کریں-


وہ دو ماہ پہلے اس گھر میں شفٹ ہوئے تھے، اور تب سے ان کے ساتھ عجیب و غریب واقعے پیش آ رہے تھے- – – کبھی چیزوں کا گُم ہو جانا، دروازے کا خود بخود کھلنا، اور  کبھی رات کے وقت عجیب عجیب آوازیں آنا،مگر آج کے دن ہونے والا واقعہ سب سے پریشان کن تھا- سعدی کے والد کا تین سال پہلے انتقال ہو گیا تھا، اور اس گھر میں صر ف شیزا اور سعدی رہتے تھے-

کچھ دیر بعد اپنے حواسوں پر قابو پاتے ہوئے شیزا سعدی کو لے کر کمرے سے باہر چلی گئی اور اُسے تسلیاں دینے لگی، مگر اس کے دماغ میں بہت سے سوالات تھے، اور وہ بہت خوفزدہ تھی- کبھی وہ سوچتی کہ اس گھر پر جنّات کا سایہ ہے، اور کبھی سوچتی کہ کسی نے وہاں پر جادو کر رکھا ہے- ہر طرف خوف ہی خوف تھا. اُسے یوں لگ رہا تھا کہ وہ کسی اندھیر نگری میں تنہا کھڑی ہے- بہت دیر سوچنے کے بعد اس نے یہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا- کیونکہ اُس گھر میں رہنا اُن کے لیے خطرے سے خالی نہ تھا- وہ رات ان دونوں نے لاؤنچ میں گزاری-

اگلی صبح سعدی کو ناشتہ کرانے کے بعد شیزا نے اسے اسکول بھیج دیا- آج انہوں نے یہ گھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جانا تھا- چنانچہ ناشتہ کرنے کے بعد  اس نے سامان بند کرنا شروع کر دیا- کچھ دیر بعد اس نے لان میں ایک لڑکے کو دیکھا- خوف کی ایک لہر اس کے وجود میں دوڑی- خوف پر قابو پاتے ہوئے وہ اس لڑکے کے پاس گئی اور پوچھا کہ تم کون ہو

 

 – “میں جن ہوں” لڑکے نے کہا-
شیزا مزید خوفزدہ ہو گی-
– ” ڈرو نہیں، میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا” لڑکے نے کہا
– “اگر تم جن ہو، تو مُجھے کیوں نظر آ رہے ہو؟ “شیزا کو اپنی آواز کسی کھائ سے آتی ہوئی محسوس ہوئی
– “کیونکہ میں چاہتا ہوں تم مُجھے دیکھ سکو اور میں تم سے بات کر سکوں- میں اس گھر میں بہت سالوں سے رہ رہا ہوں- اور اس گھر میں جو بھی آتا تھا، میں اس کے ساتھ یہی کرتا تھا جو تم لوگوں کے ساتھ کیا- سب لوگ مُجھے بھگانے کے لیے پیروں کو بلاتے، مگر مُجھے یہاں سے بھگانے میں کامیاب نہ ہوتے- تم پہلی ایسی انسان ہو جس نے مُجھے بھگانے کی کوشش نہیں کی بلکہ خود گھر چھوڑ کر جا رہی ہو- تو میں نے سوچا کہ تمہیں یہاں رہنے دیا جائے- کیونکہ تمہارے یہاں رہنے سے مُجھے کوئی نقصان نہیں کیونکہ مُجھے امید ہے کہ تم مُجھے یہاں رہنے دو گی- اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ میری وجہ سے تھم دونوں کو یہاں کوئی نقصان نہیں ہوگا” جن نے کہا-
– “شکریہ! تم یہاں رہ سکتے ہو-” شیزا نے خود کو کہتے سنا- پتا نہیں کیوں اُسے جن کی بات کا یقین ہو گیا تھا-
– “شکریہ کی کوئی بات نہیں- تم نے میرے ساتھ اچھا کیا ہے، تو میں تمہارے ساتھ برا کیسے کر سکتا تھا؟ “
یہ کہہ کر جن غائب ہو گیا- – –

 

ختم شد

Comments

About The Author

Tooba Nadeem

I love reading novels. Writing is my passion. I love to play basketball and squash